تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

ابو الحسنات حقی

تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

ابو الحسنات حقی

MORE BYابو الحسنات حقی

    تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

    میں جی رہا ہوں مگر جان و مال ہے اس کا

    وہ زینہ زینہ اترنے لگے تو سب بجھ جائے

    وہ بام پر ہے تو سب ماہ و سال ہے اس کا

    میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں

    کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا

    اگل رہی ہیں خزانے کھلی ہوئی آنکھیں

    خبر کرو کہ یہ سر پائمال ہے اس کا

    ہزار سال سے ہوں تشنۂ سوال و جواب

    میں اتنا پیاسا ہوں سونا محال ہے اس کا

    اٹھائے ہاتھ تو انگڑائی استعارہ بنے

    وہ تاب و تب ہے کہ ہر دل غزال ہے اس کا

    قدم قدم شجر سایہ دار پیدا ہے

    کہ میرے ساتھ سفر میں خیال ہے اس کا

    وہ لے کے آیا ہے اپنی سرشت میں شبنم

    سفر بھی جانب باد شمال ہے اس کا

    نگاہ اٹھے تو شائستۂ جنوں ہو جائیں

    ہوس کو صید کرے وہ جمال ہے اس کا

    خبر نہیں تھی کہ یوں اس میں ڈوب جائیں گے

    ہمارے چہرے پہ رنگ ملال ہے اس کا

    کبھی کبھی تو بڑے زور سے دھڑکتا ہے

    یہ میرا دل نہیں کوئی کمال ہے اس کا

    جو آیا ہجر کا موسم تو کیا کریں گے ہم

    جو تجربے میں نہیں وہ سوال ہے اس کا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    RECITATIONS

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    ابو الحسنات حقی

    تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا ابو الحسنات حقی

    مأخذ :
    • کتاب : imkaan-e-roz-o-shab (Pg. 33)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY