تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے

ظفر مرادآبادی

تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے

ظفر مرادآبادی

MORE BYظفر مرادآبادی

    تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے

    لہو لہو وہیں منظر انا کے رکھے تھے

    کرم کے ساتھ ستم بھی بلا کے رکھے تھے

    ہر ایک پھول نے کانٹے چھپا کے رکھے تھے

    سکون چہرے پہ ہر خوش ادا کے رکھے تھے

    سمندروں نے بھی تیور چھپا کے رکھے تھے

    مری امید کا سورج کہ تیری آس کا چاند

    دیے تمام ہی رخ پر ہوا کے رکھے تھے

    وہ جس کی پاک اڑانوں کے معترف تھے سب

    جلے ہوئے وہی شہپر حیا کے رکھے تھے

    بنا یزید زمانہ جو میں حسین بنا

    کہ ظلم باقی ابھی کربلا کے رکھے تھے

    انہیں کو توڑ گیا ہے خلوص کا چہرہ

    جو چند آئنے ہم نے بچا کے رکھے تھے

    یوں ہی کسی کی کوئی بندگی نہیں کرتا

    بتوں کے چہروں پہ تیور خدا کے رکھے تھے

    گئے ہیں باب رسا تک وہ دستکیں بن کر

    ظفرؔ جو ہاتھ پہ آنسو دعا کے رکھے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY