تمام روئے زمیں پر سکوت چھایا تھا

رفیق راز

تمام روئے زمیں پر سکوت چھایا تھا

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    تمام روئے زمیں پر سکوت چھایا تھا

    نزول کیسی قیامت کا ہونے والا تھا

    یہاں تو آگ اگلتی ہے یہ زمیں ہر سو

    وہ ایک ابر کا پارہ کہاں پہ برسا تھا

    بس ایک بار ہوا تھا وجود کا احساس

    بس ایک بار دریچے سے اس نے جھانکا تھا

    ابھی ڈسا نہ گیا تھا یہ جسم تپتا ہوا

    ابھی خزینۂ مخفی پہ سانپ سویا تھا

    سفر میں سر پہ تری دھن تو تھی سوار مگر

    نگاہ میں کوئی منزل نہ کوئی رستہ تھا

    یہ قطرہ بحر معانی ہے موجزن جس میں

    قلم کی نوک سے پہلے کبھی نہ ٹپکا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے