تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا

رفیق راز

تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    تمام شہر تھا جنگل سا اینٹ پتھر کا

    غضب وہ دیکھ کے آیا ہوں باد صرصر کا

    صدائیں چشمے ابلنے کی آ رہی ہیں مجھے

    کسی نے توڑ دیا کیا سکوت پتھر کا

    ملا ہے خاک نشینی سے یہ مقام مجھے

    زمیں ہے تخت فلک تاج ہے مرے سر کا

    مجھے تو کوئی بھی موسم اڑا نہیں سکتا

    کہ میں تو رنگ ہوں اس کے ادھورے منظر کا

    رواں کیا ہے مجھے کن بلندیوں کی طرف

    کہ آسمان بھی لگتا ہے سایہ شہ پر کا

    میں اپنا گھر تو جلا کے سفر پہ نکلا تھا

    خیال دشت میں آیا فقط ترے در کا

    سنائی دیتی نہیں ہے اب اپنی آہٹ بھی

    رواں ہوا ہے ہر اک سمت شور اندر کا

    جب آفتاب سا مجھ پر ہوا تھا روشن تو

    مجھے ہے یاد وہ یخ بستہ دن دسمبر کا

    ہوائے لمس میں اک آگ بھی تھی پوشیدہ

    کہ تابناک ہوا جسم سنگ مرمر کا

    زہے نصیب محمد کا نام لیوا ہوں

    ہے لاکھ شکر خدائے بزرگ و برتر کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے