تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی

MORE BYداغؔ دہلوی

    تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

    تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں

    ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں

    وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں

    زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں

    ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

    پھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہ

    پھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں

    ہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب کچھ

    وہ اندھے ہیں جو جام جم دیکھتے ہیں

    نہ ایمائے خواہش نہ اظہار مطلب

    مرے منہ کو اہل کرم دیکھتے ہیں

    کبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنے

    کبھی نبض بسمل میں دم دیکھتے ہیں

    غنیمت ہے چشم تغافل بھی ان کی

    بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں

    غرض کیا کہ سمجھیں مرے خط کا مضموں

    وہ عنوان و طرز رقم دیکھتے ہیں

    سلامت رہے دل برا ہے کہ اچھا

    ہزاروں میں یہ ایک دم دیکھتے ہیں

    رہا کون محفل میں اب آنے والا

    وہ چاروں طرف دم بدم دیکھتے ہیں

    ادھر شرم حائل ادھر خوف مانع

    نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں

    انہیں کیوں نہ ہو دل ربائی سے نفرت

    کہ ہر دل میں وہ غم الم دیکھتے ہیں

    نگہباں سے بھی کیا ہوئی بد گمانی

    اب اس کو ترے ساتھ کم دیکھتے ہیں

    ہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازی

    کہ شاہ دکن کے قدم دیکھتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY