تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے

ضیا فاروقی

تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے

ضیا فاروقی

MORE BYضیا فاروقی

    تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے

    میں کس سے پوچھنے جاؤں کہ میرے روبرو کیا ہے

    بصارت کہہ رہی ہے کچھ نہیں اس دشت وحشت میں

    سماعت پوچھتی ہے پھر یہ آخر ہاؤ ہو کیا ہے

    یہ کس کی آمد و شد سے ہوائیں رقص کرتی ہیں

    یہ کیوں موسم بدلتے ہیں میان رنگ و بو کیا ہے

    در و دیوار کیا کہتے ہیں گھر کس کو بلاتا ہے

    گزرتے موسموں سے بام و در کی گفتگو کیا ہے

    دکھائی کیوں نہیں دیتا مجھے اس پار کا منظر

    یہ اک دیوار جیسی چشم تر کے روبرو کیا ہے

    میں اس کے سامنے اک آئینہ لے جا کے رکھ دوں گا

    ضیاؔ اپنی زباں سے کیوں کہوں اس سے کہ تو کیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Pas-e-Gard-e-Safar (Pg. 73)
    • Author : Zia Farooqui
    • مطبع : Educational Publishing House (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY