تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

فرید پربتی

تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

فرید پربتی

MORE BYفرید پربتی

    تمنا اپنی ان پر آشکارا کر رہا ہوں میں

    جو پہلے کر چکا ہوں اب دوبارا کر رہا ہوں میں

    شکست آرزو عرض تمنا شوق لا حاصل

    تری خاطر تو یہ سب کچھ گوارا کر رہا ہوں میں

    قفس میں جی بہلنے کے لیے وہ پھول رکھ آئے

    ہجوم یاس میں جن پر گزارا کر رہا ہوں میں

    غرض اس چیز سے مجھ کو نہیں میری نہ جو ہوگی

    یہ باعث ہے کہ دنیا سے کنارا کر رہا ہوں میں

    میں کھل کر کہہ نہیں سکتا نیاز عشق کی باتیں

    فقط ان کی طرف بس اک اشارا کر رہا ہوں میں

    مرے سر پر ہے باقی ایک سایہ میرے ماضی کا

    سنبھل کر عصر حاضر کا نظارا کر رہا ہوں میں

    فریدؔ اک دن سہارے زندگی کے ٹوٹ جائیں گے

    سبب یہ ہے کہ خود کو بے سہارا کر رہا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے