تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

شاد عظیم آبادی

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

    کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

    ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ

    ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں

    نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر

    کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں

    دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم

    میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

    سویرا ہے بہت اے شور محشر

    ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں

    ستایا آ کے پہروں آرزو نے

    جو دم بھر آپ میں پایا گیا ہوں

    نہ تھا میں معتقد اعجاز مے کا

    بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں

    لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپا کر

    بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں

    عدم میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے

    بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں

    کجا میں اور کجا اے شادؔ دنیا

    کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    استاد برکت علی خان

    استاد برکت علی خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY