تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

سحر انصاری

تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    تنگ آتے بھی نہیں کشمکش دہر سے لوگ

    کیا تماشا ہے کہ مرتے بھی نہیں زہر سے لوگ

    شہر میں آئے تھے صحرا کی فضا سے تھک کر

    اب کہاں جائیں گے آسیب زدہ شہر سے لوگ

    نخل ہستی نظر آئے گا کبھی نخل صلیب

    زیست کی فال نکالیں گے کبھی زہر سے لوگ

    ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز

    یہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ

    مطمئن رہتے ہیں طوفان مصائب میں کبھی

    ڈوب جاتے ہیں کبھی درد کی اک لہر سے لوگ

    اے زمیں آج بھی ذرے ہیں ترے مہر تراش

    اے فلک آج بھی لڑتے ہیں ترے قہر سے لوگ

    صرف محرومیٔ فرہاد کا کیا ذکر سحرؔ

    بے ستوں کاٹ کے محروم رہے نہر سے لوگ

    مآخذ :
    • کتاب : namuud (Pg. 181)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY