تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

شبنم شکیل

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

شبنم شکیل

MORE BYشبنم شکیل

    تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

    کوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں

    اے کم نصیب دل تو مگر چاہتا ہے کیا

    سنیاس لے لیں چھوڑ دیں گھر بار کیا کریں

    الجھا کے خود ہی زیست کے اک ایک تار کو

    خود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں

    اک عمر تک جو زیست کا حاصل بنی رہیں

    پامال ہو رہی ہیں وہ اقدار کیا کریں

    ہے پوری کائنات کا چہرہ دھواں دھواں

    غزلوں میں ذکر یار طرح دار کیا کریں

    اس دوہری زندگی میں بھی لاکھوں عذاب ہیں

    دنیا سے دل ہے برسر پیکار کیا کریں

    مأخذ :
    • کتاب : Shab Zaad (Pg. 117)
    • Author : Shabnam Shakeel
    • مطبع : Mavaraa Publications (1978)
    • اشاعت : 1978

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY