تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے

نظم طبا طبائی

تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے

نظم طبا طبائی

MORE BYنظم طبا طبائی

    تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہے

    وہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہے

    ہنگامہ اک پری کی سواری کا دیکھنا

    کیا دھوم ہے کہ سیکڑوں دیوانہ ساتھ ہے

    دل میں ہیں لاکھ طرح کے حیلے بھرے ہوئے

    پھر مشورہ کو آئینہ و شانہ ساتھ ہے

    روز سیہ میں ساتھ کوئی دے تو جانیے

    جب تک فروغ شمع ہے پروانہ ساتھ ہے

    دیتا نہیں ہے ساتھ تہی دست کا کوئی

    جب تک کہ مے ہے شیشہ میں پیمانہ ساتھ ہے

    سیکھا ہوں میکدہ میں طریق فروتنی

    جب تک کہ سر ہے سجدۂ شکرانہ ساتھ ہے

    جو بے بصر ہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں دور دور

    اور ہر قدم پہ جلوۂ جانانہ ساتھ ہے

    کیا خوف ہو ہمیں زن دنیا کے مکر کا

    اپنی مدد کو ہمت مردانہ ساتھ ہے

    غم کی کتاب سے دل صد پارہ کم نہیں

    جس بزم میں گئے یہی افسانہ ساتھ ہے

    مانند گرد باد ہوں خانہ بدوش میں

    صحرا میں ہوں مگر مرا کاشانہ ساتھ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY