تنہائی کی آغوش میں تھا صبح سے پہلے

عامر سوقی

تنہائی کی آغوش میں تھا صبح سے پہلے

عامر سوقی

MORE BYعامر سوقی

    تنہائی کی آغوش میں تھا صبح سے پہلے

    ملتی رہی الفت کی سزا صبح سے پہلے

    شاید مرے لفظوں پہ ترس آئے اسے اب

    روتے ہوئے مانگی ہے دعا صبح سے پہلے

    سایہ بھی مرا کھو گیا تاریکئ شب میں

    ظلمت کا اثر ایسا رہا صبح سے پہلے

    جب رات میں سو جاتی ہے یہ ساری خدائی

    دیتا ہے مجھے کون صدا صبح سے پہلے

    شاید کہ مقدر میں نہ ہو کل کا یہ سورج

    ہو جائے ہر اک قرض ادا صبح سے پہلے

    شوقیؔ تجھے مل جائیں گے شیخ اور برہمن

    اس شہر کے میخانے میں آ صبح سے پہلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY