تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں

جوشش عظیم آبادی

تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں

جوشش عظیم آبادی

MORE BY جوشش عظیم آبادی

    تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میں

    کیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میں

    رخصت ہو چلا تھا تب دامن نہ ترا تھاما

    افسوس کہ ملتے ہیں اب ہاتھ جدائی میں

    کیا ذکر ہے آنسو کا ظالم مری آنکھوں سے

    خوں ناب ہی ٹپکے ہے یک ذات جدائی میں

    جب وصل تھا ان روزوں یک دل ہی پہ آفت تھی

    اب جان کا ہے سودا ہیہات جدائی میں

    یہ نالہ و زاری یہ خستگی و خواری

    جیدھر کو چلوں ؔجوشش ہیں سات جدائی میں

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY