طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گا

ظفر گورکھپوری

طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گا

ظفر گورکھپوری

MORE BY ظفر گورکھپوری

    طریق گریہ اب اس سے بہتر نہیں ملے گا

    کہ ایک آنسو بھی کوئی باہر نہیں ملے گا

    یہ شہر بھیدوں بھرا یہاں آدمی ملیں گے

    مگر کسی کے بھی دوش پر سر نہیں ملے گا

    ملے گا دفتر تو چھوٹ جائے گا گھر کہیں پر

    جو گھر ملے گا کہیں تو دفتر نہیں ملے گا

    زمیں پہ پکی عمارتیں اگ رہی ہیں ایسے

    دوانے سر پھوڑنے کو پتھر نہیں ملے گا

    چھلکتی آنکھوں ہری بھری مسکراہٹوں بن

    ملیں گے دیوار و در یہاں گھر نہیں ملے گا

    ملے گی دنیا ملو گے تم سب ملیں گے لیکن

    ہمارا وہ گم شدہ مقدر نہیں ملے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY