ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال

مصحفی غلام ہمدانی

ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    ترسا نہ مجھ کو کھینچ کے تلوار مار ڈال

    گر مار ڈالنا ہے تو یک بار مار ڈال

    عاشق جو تیری زلف کا ہو اس کو تو صنم

    لے جا کے تیرہ شب پس دیوار مار ڈال

    کبک دری کے لاکھ قفس ہوں جہاں دھرے

    دکھلا کے ان کو شوخی رفتار مار ڈال

    کچھ ہم نے تیرے ہاتھ تو پکڑے نہیں میاں

    گر جانتا ہے ہم کو گنہ گار مار ڈال

    صیاد تجھ کو کس نے کہا تھا کہ فصل گل

    مجھ کو قفس میں کر کے گرفتار مار ڈال

    جو جاں بہ لب ہو حسرت دیدار میں تری

    دکھلا کے اس کو جلوۂ رخسار مار ڈال

    سودائیان عشق کا جھگڑا چکا کہیں

    لے جا کے ان کو برسر بازار مار ڈال

    تیغ و کمند مانگ کر ابرو و زلف سے

    عاشق بہت ہوئے ہیں جفا کار مار ڈال

    گر یہ بھی ہو سکے نہ تو کہتا ہے مصحفیؔ

    دو چار کر لے قید میں دو چار مار ڈال

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-soom) (Pg. 137)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY