تسلی کو ہماری باغباں کچھ اور کہتا ہے

غبار بھٹی

تسلی کو ہماری باغباں کچھ اور کہتا ہے

غبار بھٹی

MORE BYغبار بھٹی

    تسلی کو ہماری باغباں کچھ اور کہتا ہے

    گلستاں سے مگر اڑتا دھواں کچھ اور کہتا ہے

    بہم کچھ سازشیں پھر ہو رہی ہیں برق و باراں میں

    ہر اک طائر سے لیکن آشیاں کچھ اور کہتا ہے

    سمجھتے ہیں خدا معلوم کیا کچھ کارواں والے

    زباں میں اپنی میر کارواں کچھ اور کہتا ہے

    نہ پھولو اس طرح سے نغمۂ مرغ خوش الحاں پر

    تمہیں آوازۂ بانگ اذاں کچھ اور کہتا ہے

    مگر محروم زاہد ہو گیا ہے گوش شنوا سے

    اسے بت خانے میں حسن بتاں کچھ اور کہتا ہے

    یہ خوش فہمی کہ کچھ سمجھے ہوئے ہیں انجمن والے

    مگر ہر اک سے رنگ داستاں کچھ اور کہتا ہے

    ٹھہر جا ہاں ٹھہر جا جانے والے اس کو سنتا جا

    بہ حال نزع تیرا نیم جاں کچھ اور کہتا ہے

    مخالف اس کے کچھ کچھ آ رہی ہیں دل کی آوازیں

    مگر ہم سے حجاب درمیاں کچھ اور کہتا ہے

    نہ رہنا چاہئے گلشن میں مرعوب خزاں ہو کر

    کہ ہم سے آج رنگ گلستاں کچھ اور کہتا ہے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY