تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم

جرأت قلندر بخش

تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم

جرأت قلندر بخش

MORE BY جرأت قلندر بخش

    تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم

    تو پھر کرتے ہیں آپ ہی آپ کیا کیا کچھ اشارے ہم

    کہے ہے یوں دل مضطر سے اس بن جان غم دیدہ

    چلو تم رفتہ رفتہ آتے ہیں پیچھے تمہارے ہم

    کئی بار اس نے دیکھا آج چشم قہر سے ہم کو

    سزا وار عقوبت تو ہوئے اے بخت بارے ہم

    نہ مانی دل نے اپنی اور نہ ہم نے بات ناصح کی

    ہمیں کہہ کہہ کے ہارا وہ اسے کہہ کے ہارے ہم

    وہ جب آئینہ دیکھے ہے تو کیا کیا مسکراتا ہے

    سمجھ کر یہ کہ یعنی ہیں قیامت پیارے پیارے ہم

    ملا لطف سخن کیا خاک ہم کو اس کی محفل میں

    کہ چپ بیٹھے رہے جوں نقش دیوار اک کنارے ہم

    ہوئے ہیں چاہنے والے تمہارے سیکڑوں پیدا

    یہ سچ ہے جی کہ کس گنتی میں ہیں یاں اب بچارے ہم

    کسی مہوش کے غم نے کر دیا نا طاقت ایسا ہی

    کہ چھٹتے دیکھتے ہیں اکثر آنکھوں آگے تارے ہم

    اٹھا کر آنکھ تو تم دیکھ لو یاں کوئی دیکھے ہے

    ذرا قربان ہونے دو ہمیں صدقے تمہارے ہم

    کریں کیا آہ اور کس سے کہیں ہم اپنی بے چینی

    کہیں چین اب ترے ہاتھوں نہیں پاتے ہیں پیارے ہم

    قرار اک جا نظر آتا نہیں ہے بے قراری میں

    گل بازی کی صورت پھرتے ہیں بس مارے مارے ہم

    ہمیں کیا خطرۂ جاں ہے کہ ہم ہیں نام کو جرأتؔ

    نہ ہوں پھر کیوں کہ میدان محبت میں اتارے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY