طویل سوچ ہے اور مختصر لہو میرا

علی عباس امید

طویل سوچ ہے اور مختصر لہو میرا

علی عباس امید

MORE BYعلی عباس امید

    طویل سوچ ہے اور مختصر لہو میرا

    گراں سفر میں ہے زاد سفر لہو میرا

    وہ رونقیں بھی گئیں اس کے خشک ہوتے ہی

    سجاتا رہتا تھا دیوار و در لہو میرا

    ہر ایک لمحہ مجھے زندگی نے قتل کیا

    تمام عمر رہا میرے سر لہو میرا

    دیار غیر کو مہکا گیا حنا بن کر

    یہ واقعہ ہے رہا بے ہنر لہو میرا

    وہ روح تھی جسے عہد وفا کا پاس نہ تھا

    کبھی نہ چھوڑ سکا اپنا گھر لہو میرا

    اجال دیں گے اندھیروں کی یہ جبیں اک دن

    بکھیرتا ہے کچھ ایسے شرر لہو میرا

    رواں ہے قافلۂ فکر سوئے دشت جنوں

    دکھا رہا ہے اسے رہ گزر لہو میرا

    روانی لکھتی رہی جن کا نام آٹھ پہر

    وہیں بہایا گیا خاک پر لہو میرا

    نہ جانے کون سی رت آ گئی امیدؔ اب کے

    چھپا نہ پائی مری چشم تر لہو میرا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY