تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

اختر صدیقی

تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

اختر صدیقی

MORE BYاختر صدیقی

    تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    خود کو دیوانہ بنائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    ساقیٔ بزم کے مخصوص اشاروں کی قسم

    جام ہونٹوں سے لگائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    اس نمائش گہہ عالم میں کمی ہے اب تک

    اشک آنکھوں میں چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    شب کی دیوی کا سکوت اور ہی کچھ کہتا ہے

    پھر بھی دو شمعیں جلائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    میری اک آرزوئے دید کا اعجاز نہ پوچھ

    منہ کو ہاتھوں سے چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    یاد بھی تیری اک آزار مسلسل ہے مگر

    اپنے سینے سے لگائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    ہم کو معلوم ہے اخترؔ کہ ہماری خاطر

    ایک عالم کو بھلائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

    مأخذ :
    • کتاب : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 25)
    • Author : devendra issar
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (1963)
    • اشاعت : 1963

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY