تیرے عالم کا یار کیا کہنا

آغا حجو شرف

تیرے عالم کا یار کیا کہنا

آغا حجو شرف

MORE BY آغا حجو شرف

    تیرے عالم کا یار کیا کہنا

    ہر طرف ہے پکار کیا کہنا

    اف نہ کی درد ہجر ضبط کیا

    اے دل بے قرار کیا کہنا

    وعدۂ وصل ان سے لوں کیوں کر

    میرا کیا اختیار کیا کہنا

    کیا ہی نیرنگیاں دکھائی ہیں

    میرے باغ و بہار کیا کہنا

    کیسے عاشق ہیں ان سے جب پوچھا

    بولے بے اختیار کیا کہنا

    مشت پر بھی گلوں کے گرد رہے

    آفریں اے ہزار کیا کہنا

    ترچھی نظریں چھری کٹاری ہیں

    چشم بد دور یار کیا کہنا

    گلشنوں میں یہ رنگ روپ کہا

    لا جواب اے نگار کیا کہنا

    دم عیسیٰ کو مات کرتی ہے

    اے نسیم بہار کیا کہنا

    امتحاں کر چکے تو وہ بولے

    اے مرے جاں نثار کیا کہنا

    اس کے کوچے میں بیٹھ کر نہ اٹھا

    واہ میرے غبار کیا کہنا

    جانتے ہیں کہ جان دوگے شرفؔ

    اس کو پھر بار بار کیا کہنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY