تیرے در پر مقام رکھتے ہیں

قلق میرٹھی

تیرے در پر مقام رکھتے ہیں

قلق میرٹھی

MORE BY قلق میرٹھی

    تیرے در پر مقام رکھتے ہیں

    قصد دار السلام رکھتے ہیں

    ابتدا اپنی انتہا سے پرے

    ناتمامی تمام رکھتے ہیں

    آسماں سے کسے امید نجات

    آشیاں زیر دام رکھتے ہیں

    ایک یوسف کہ ساتھ غربت میں

    ایسے لاکھوں غلام رکھتے ہیں

    بے بہا شے ہوں میں کہ وہ مجھ کو

    ناخریدہ غلام رکھتے ہیں

    سب کی سنتے ہیں کرتے ہیں جی کی

    کام سے اپنے کام رکھتے ہیں

    وصل معشوق ہے سلیمانی

    وہ ہی جم ہیں جو جام رکھتے ہیں

    کچھ تری دوستی کی قدر نہیں

    دشمنی خاص و عام رکھتے ہیں

    قیس و فرہاد کہتے ہیں وہ مجھے

    کیسے گن گن کے نام رکھتے ہیں

    نالوں کو روک روک لیتے ہیں

    دل کو ہم تھام تھام رکھتے ہیں

    کعبے میں ایک دم کی مہمانی

    مے کدے میں مدام رکھتے ہیں

    دل ربا کہنے سے وہ چونک اٹھے

    گویا ہم اتہام رکھتے ہیں

    چشم بد دور عیش عہد شباب

    صبح ہم رنگ شام رکھتے ہیں

    اے قلقؔ بیٹھیے سر خم مے

    آپ عالی مقام رکھتے ہیں

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY