تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں

اجمل سراج

تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں

اجمل سراج

MORE BYاجمل سراج

    تیرے سوا کسی کی تمنا کروں گا میں

    ایسا کبھی ہوا ہے جو ایسا کروں گا میں

    گو غم عزیز ہے مجھے تیرے فراق کا

    پھر بھی اس امتحان کا شکوہ کروں گا میں

    آنکھوں کو اشک و خوں بھی فراہم کروں گا میں

    دل کے لیے بھی درد مہیا کروں گا میں

    راحت بھی رنج، رنج بھی راحت ہو جب تو پھر

    کیا اعتبار خواہش دنیا کروں گا میں

    رکھا ہے کیا جہان میں یہ اور بات ہے

    یہ اور بات ہے کہ تقاضا کروں گا میں

    یہ رہ گزر کہ جائے قیام و قرار تھی

    یعنی اب اس گلی سے بھی گزرا کروں گا میں

    یعنی کچھ اس طرح کہ تجھے بھی خبر نہ ہو

    اس احتیاط سے تجھے دیکھا کروں گا میں

    ہے دیکھنے کی چیز تو یہ التفات بھی

    دیکھو گے تم گریز بھی ایسا کروں گا میں

    حیران و دل شکستہ ہوں اس حال زار پر

    کب جانتا تھا اپنا تماشا کروں گا میں

    ہاں کھینچ لوں گا وقت کی زنجیر پاؤں سے

    اب کے بہار آئی تو ایسا کروں گا میں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے