تیری آنکھوں سے اپنی طرف دیکھنا بھی اکارت گیا

عباس تابش

تیری آنکھوں سے اپنی طرف دیکھنا بھی اکارت گیا

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    تیری آنکھوں سے اپنی طرف دیکھنا بھی اکارت گیا

    یعنی پہچان کا یہ نیا سلسلہ بھی اکارت گیا

    یوں حنائی لکیریں اڑیں اجنبی طائروں کی طرح

    پر بریدہ سا رنگ کف صد حنا بھی اکارت گیا

    اب کھلا ہے کہ میرا ترے رنگ میں تیرے انداز میں

    بولنا ہی نہیں دیکھنا سوچنا بھی اکارت گیا

    سن رہا ہوں ابھی تک میں اپنی ہی آواز کی بازگشت

    یعنی اس دشت میں زور سے بولنا بھی اکارت گیا

    وہ زلیخائی خواہش ہی اپنے سبب سے پشیماں نہ تھی

    ساتویں در کے اندر مرا حوصلہ بھی اکارت گیا

    کوئی لو تک نہ دی کالے پیڑوں کو اس آتشیں رقص نے

    یعنی جنگل میں اس مور کا ناچنا بھی اکارت گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے