تیری آنکھوں سے ملی جنبش مری تحریر کو

یوگیندر بہل تشنہ

تیری آنکھوں سے ملی جنبش مری تحریر کو

یوگیندر بہل تشنہ

MORE BYیوگیندر بہل تشنہ

    تیری آنکھوں سے ملی جنبش مری تحریر کو

    کر دیا میں نے مکمل خواب کی تعبیر کو

    جب محبت کی کہانی لب پہ آتی ہے کبھی

    وہ برا کہتے ہیں مجھ کو اور میں تقدیر کو

    اف رے یہ شور سلاسل نیند سب کی اڑ گئی

    دو رہائی آ کے تم پا بستۂ زنجیر کو

    یہ عرق آلودہ پیشانی یہ رنج و اضطراب

    دیکھ جا آ کر شکست عشق کی تصویر کو

    زندگی یوں ان کے قدموں پر نچھاور میں نے کی

    جیسے پروانہ جلا دے نور پر تقدیر کو

    اے مرے معصوم قاتل اتنی مہلت دے مجھے

    چوم لوں آنکھوں سے اپنی برہنہ شمشیر کو

    جس نے چاہت کے تجسس میں گنوا دی زندگی

    وہ کہاں توڑے گا تشنہؔ ظلم کی زنجیر کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY