تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے

زینت شیخ

تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے

زینت شیخ

MORE BYزینت شیخ

    تیری چاہت ہی مری زیست کا سرمایہ ہے

    خود کو کھویا ہے تو اب پیار ترا پایا ہے

    جس کی خاطر مری آنکھوں کے دیے روشن تھے

    آج آنگن میں وہ مہتاب اتر آیا ہے

    شب فرقت میرے آئینۂ دل میں ہمدم

    تو نہ آیا تو ترا عکس ابھر آیا ہے

    اک نہ اک دن اسے احساس ندامت ہوگا

    بے سبب اس نے مرے پیار کو ٹھکرایا ہے

    اور کچھ بھی نہ دیا جھوٹی تسلی کے سوا

    مجھ کو بچوں کی طرح آپ نے بہلایا ہے

    دشت تنہائی میں قیدی کی طرح ہوں زینتؔ

    میں جہاں ہوں وہاں ہم درد نہ ہمسایہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے