تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے

آصفہ زمانی

تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے

آصفہ زمانی

MORE BYآصفہ زمانی

    تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے

    بھلے ہی دل کو سمجھایا بہت ہے

    بہت زخمی کیا ہے دل کو تم نے

    تمہیں کو پھر بھی اپنایا بہت ہے

    کھلے رہتے ہیں زخم دل ہمیشہ

    خزاں نے ظلم تو ڈھایا بہت ہے

    لب جاناں جو زمزم آتشیں تھا

    حواسوں پر مرے چھایا بہت ہے

    لغت میں حسن کی تعریف ڈھونڈھی

    مگر ہر لفظ کم مایہ بہت ہے

    دل آتش کی سازش میں زمانیؔ

    شب ہجراں کو گرمایا بہت ہے

    RECITATIONS

    نامعلوم

    نامعلوم

    نامعلوم

    تیری یادوں نے تڑپایا بہت ہے نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY