تھا برف آتش میں ڈھل رہا ہے

پون کمار

تھا برف آتش میں ڈھل رہا ہے

پون کمار

MORE BYپون کمار

    تھا برف آتش میں ڈھل رہا ہے

    وہ خود کو یکسر بدل رہا ہے

    کسی نے ڈھالے ہیں موم کے بت

    کسی کا سورج پگھل رہا ہے

    ابھی زمیں پر گرے گا ٹپ سے

    بہت زیادہ اچھل رہا ہے

    نئی عبارت لکھے گا شاید

    وہ دائرے سے نکل رہا ہے

    اندھیرے پھر ہاتھ مل رہے ہیں

    پھر ایک جگنو سنبھل رہا ہے

    بجھا سمندر کی پیاس یارب

    یہ کتنی ندیاں نگل رہا ہے

    جو چاند رہتا تھا آسماں میں

    سنا ہے چھت پر ٹہل رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY