تھا جو شعر راست سرو بوستان ریختہ

مصحفی غلام ہمدانی

تھا جو شعر راست سرو بوستان ریختہ

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    تھا جو شعر راست سرو بوستان ریختہ

    اب وہی ہے لالۂ زرد خزان ریختہ

    آگے کچھوے کی کماں کے قدر کیا اس کی رہی

    تھی فرید آبادی اپنی گو کمان ریختہ

    خشک کرتے ہیں جو فکر خشک سے اپنا دماغ

    جانتے ہیں اس کو مغز ستخوان ریختہ

    پیچ دے دے لفظ و معنی کو بناتے ہیں کلفت

    اور وہ پھر اس پہ رکھتے ہیں گمان ریختہ

    فہم میں اتنا نہیں آتا بحکم رائے پست

    اس بلندی سے گھٹی جاتی ہے شان ریختہ

    خوان یغما بن کے پہنچا ہر کس و ناکس کے ہاتھ

    نطع سلطاں جو تھا مخصوص خوان ریختہ

    ہے رگ ابر بہاری ہاتھ میں میرے قلم

    رشک جنت جس سے ہے یہ گلستان ریختہ

    فارسی اب ہو گئی ہے ننگ اس کے واسطے

    فارسی کا ننگ تھا جیسے قرآن ریختہ

    چاند تارے کا دوپٹا میں دیا اس کو بنا

    ورنہ اس زینت سے کب تھا آسمان ریختہ

    رفتہ رفتہ ہائے اس کا اور عالم ہو گیا

    نظم سے اپنی گرا نظم بیان ریختہ

    جب سے معنی بندی کا چرچا ہوا اے مصحفیؔ

    خلطے میں جاتا رہا حسن زبان ریختہ

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(shashum) (Pg. 271)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY