ٹھنڈی ٹھنڈی نرم ہوا کا جھونکا پیچھے چھوٹ گیا

خالد محمود

ٹھنڈی ٹھنڈی نرم ہوا کا جھونکا پیچھے چھوٹ گیا

خالد محمود

MORE BY خالد محمود

    ٹھنڈی ٹھنڈی نرم ہوا کا جھونکا پیچھے چھوٹ گیا

    جانے کس وحشت میں گھر کا رستہ پیچھے چھوٹ گیا

    بچے میری انگلی تھامے دھیرے دھیرے چلتے تھے

    پھر وہ آگے دوڑ گئے میں تنہا پیچھے چھوٹ گیا

    عہد جوانی رو رو کاٹا میرؔ میاں سا حال ہوا

    لیکن ان کے آگے اپنا قصہ پیچھے چھوٹ گیا

    پیچھے مڑ کر دیکھے گا تو آگے بڑھنا مشکل ہے

    میں نے کتنی بار کہا تھا دیکھا؟ پیچھے چھوٹ گیا

    سر تا پا سیلاب تھے خالدؔ چاروں جانب دریا تھا

    پیاس میں جس دن شدت آئی دریا پیچھے چھوٹ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites