تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

ظفر گورکھپوری

تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی

    اس نے بھی سوچا بہت ہم نے بھی عجلت نہیں کی

    تو نے جو درد کی دولت ہمیں دی تھی اس میں

    کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی

    زاویہ کیا ہے جو کرتا ہے تجھے سب سے الگ

    کیوں ترے بعد کسی اور کی حسرت نہیں کی

    آئے اور آ کے چلے بھی گئے کیا کیا موسم

    تم نے دروازہ ہی وا کرنے کی ہمت نہیں کی

    اپنے اطوار میں کتنا بڑا شاطر ہوگا

    زندگی تجھ سے کبھی جس نے شکایت نہیں کی

    ایک اک سانس کا اپنے سے لیا سخت حساب

    ہم بھی کیا تھے کبھی خود سے بھی مروت نہیں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY