تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا

آبرو شاہ مبارک

تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا

آبرو شاہ مبارک

MORE BYآبرو شاہ مبارک

    تیرہ رنگوں کے ہوا حق میں یہ تپ کرنا دوا

    تیرگی جاتی رہی چہرے کی اور اپچی صفا

    کیا سبب تیرے بدن کے گرم ہونے کا سجن

    عاشقوں میں کون جلتا تھا گلے کس کے لگا

    تو گلے کس کے لگے لیکن کنھی بے رحم نے

    گرم دیکھا ہوئے گا تیرے تئیں انکھیاں ملا

    بو الہوس ناپاک کی ازبسکہ بھاری ہے نظر

    پردۂ عصمت میں تو اپنے تئیں اس سیں چھپا

    اشک گرم و آہ سرد عاشق کے تئیں وسواس کر

    خوب ہے پرہیز جب ہو مختلف آب و ہوا

    گرم خوئی سیں پشیماں ہو کے ٹک لاؤ عرق

    تپ کی حالت میں پسینا آؤنا ہو ہے بھلا

    دل مرا تعویذ کے جوں لے کے اپنے پاس رکھ

    تو طفیل حضرت عاشق کے ہو تجھ کوں شفا

    ترش گوئی چھوڑ دے اور تلخ گوئی ترک کر

    اور کھانا جو کہ ہو خوش کا تری سو کر غذا

    بو علیؔ ہے نبض دانی میں بتاں کی آبروؔ

    اس کا اس فن میں جو نسخہ ہے سو ہے اک کیمیا

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Aabro (Pg. 101)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY