طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا

منظور ہاشمی

طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا

منظور ہاشمی

MORE BYمنظور ہاشمی

    طلسم کوہ ندا جب بھی ٹوٹ جائے گا

    تو کاروان صدا بھی پلٹ کے آئے گا

    کھنچی رہیں گی سروں پر اگر یہ تلواریں

    متاع زیست کا احساس بڑھتا جائے گا

    ہوائیں لے کے اڑیں گی تو برگ آوارہ

    نشان کتنے نئے راستوں کا پائے گا

    میں اپنے قتل پہ چیخا تو دور دور تلک

    سکوت دشت میں اک ارتعاش آئے گا

    کواڑ اپنے اسی ڈر سے کھولتے نہیں ہم

    سوا ہوا کے انہیں کون کھٹکھٹائے گا

    ہوائیں گرد سے ہر راستے کو ڈھک دیں گی

    ہمارے بعد کوئی قافلہ نہ جائے گا

    یوں ہی ڈبوتا رہا کشتیاں اگر سیلاب

    تو سطح آب پہ چلنا بھی آ ہی جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY