تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلط

نبیل احمد نبیل

تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلط

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    تنکے کا ہاتھ آیا سہارا غلط غلط

    موج طلب نے پایا کنارا غلط غلط

    سیل بلا میں ڈوب رہا تھا میں جس گھڑی

    دنیا کے ساتھ اس نے پکارا غلط غلط

    ہم لوگ جی رہے ہیں ترے شہر میں ابھی

    کیجے نہ اندراج ہمارا غلط غلط

    چلتا ہے دشمنوں کی طرح میرے ساتھ جو

    اس نے کیا ہے مجھ کو گوارا غلط غلط

    کوئی بھی چیز رہنی نہیں تا ابد یہاں

    نقشہ ہے اس جہان کا سارا غلط غلط

    شاخ طلب کو پانی دیا ہے لہو نہیں

    ہم نے ہر ایک گل کو نکھارا غلط غلط

    راتوں کا اضطراب نہیں یوں بھی جا سکا

    ابھرا ہے ظلمتوں میں ستارہ غلط غلط

    اک اک ورق میں خوف کا مضمون ہے میاں

    ہے زیست کا ہر ایک شمارہ غلط غلط

    دھوکا دیا ہے آئنے کو اس نے اس طرح

    زلفوں کو اس نے رخ پہ سنوارا غلط غلط

    الزام دے کے دانۂ گندم کا اے نبیلؔ

    اس نے مجھے زمیں پہ اتارا غلط غلط

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY