ترا چہرہ ترا حسن وفا کچھ اور کہتا ہے

اشراق عزیزی

ترا چہرہ ترا حسن وفا کچھ اور کہتا ہے

اشراق عزیزی

MORE BYاشراق عزیزی

    ترا چہرہ ترا حسن وفا کچھ اور کہتا ہے

    مگر شیریں لبوں کا ذائقہ کچھ اور کہتا ہے

    تجھے سب شاعروں نے اپنے اپنے رنگ میں ڈھالا

    مگر میری غزل کا آئنہ کچھ اور کہتا ہے

    عجب سی کشمکش میں ہوں زوال عشق ہے لازم

    صنم کچھ اور کہتا ہے خدا کچھ اور کہتا ہے

    تری قربت میں چاہت کی کشش دیکھی نہیں لیکن

    ہمارے درمیاں کا فاصلہ کچھ اور کہتا ہے

    اندھیروں سے نکل چل جگنوؤں سے دوستی کر لیں

    ہوا کچھ اور کہتی ہے دیا کچھ اور کہتا ہے

    ہماری راہ تھی راہ وفا اشراقؔ اب لیکن

    ہمارے قافلے کا رہنما کچھ اور کہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY