ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    ترا شوق دیدار پیدا ہوا ہے

    پھر اس دل کو آزار پیدا ہوا ہے

    سدا پان کھا کھا کے نکلے ہے باہر

    زمانے میں خوں خوار پیدا ہوا ہے

    یہ مدفن ہے کس کا جو ہر لالہ یاں سے

    جگر خوں دل افگار پیدا ہوا ہے

    اڑائے ہیں لخت جگر آہ نے جب

    ہوا میں بھی گل زار پیدا ہوا ہے

    میں کیوں کر نہ رکھوں عزیز اپنے دل کو

    کہیں دل سا بھی یار پیدا ہوا ہے

    کہے تھی یہ طفلی میں دیکھ اس کو دایہ

    یہ لڑکا طرح دار پیدا ہوا ہے

    میں آیا ہوں مدت میں کوئی اس سے کہہ دو

    تمہارا گنہ گار پیدا ہوا ہے

    یہ دل مجھ سے لڑتا ہے تیری طرف سے

    کہاں کا طرف دار پیدا ہوا ہے

    میاں مصحفیؔ بیچتے ہو جو دل کو

    تو لاؤ خریدار پیدا ہوا ہے

    مآخذ
    • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(awwa) (Pg. 346)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY