ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم

احتشام الحق صدیقی

ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم

احتشام الحق صدیقی

MORE BYاحتشام الحق صدیقی

    ترے بدن کی نزاکتوں کا ہوا ہے جب ہم رکاب موسم

    نظر نظر میں کھلا گیا ہے شرارتوں کے گلاب موسم

    ہم اپنے گم گشتہ ولولوں پر خنک ہواؤں کے قہقہوں کا

    جواب دیتے جو ساتھ لاتا ہمارا عہد شباب موسم

    وہ ایک بنجر زمین گھر کی جو سن رہی تھی سبھی کے طعنے

    خوشا کہ اس بار اس زمیں کو بھی دے گیا اک گلاب موسم

    امیر لوگوں کی کوٹھیوں تک ترے غضب کی پہنچ کہاں ہے

    فقط غریبوں کے جھونپڑوں تک ہے تیرا دست عتاب موسم

    یہ برف پگھلے گی چوٹیوں سے پروں میں آئے گی پھر حرارت

    بھریں گے اونچی اڑان پھر ہم رہے گا کب تک خراب موسم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY