ترے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے

اعزاز کاظمی

ترے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے

اعزاز کاظمی

MORE BYاعزاز کاظمی

    ترے بغیر لگ رہا ہے یہ سفر خموش ہے

    ہوا تھمی ہوئی ہے اور رہ گزر خموش ہے

    ہیں اپنی اپنی جا پہ دونوں مضطرب کہ کیا کریں

    تری نگہ میں شور ہے مری نظر خموش ہے

    تری صدائیں آ نہیں رہی ہیں اس سکوت میں

    کہ ہونٹ ہل رہے ہیں تیرے تو مگر خموش ہے

    پکارتا ہوں اپنے آپ کو کہ مر نہ جاؤں میں

    مگر پکار پر مری طرح نگر خموش ہے

    کوئی تو گنگ رہ گیا کسی کو سانپ ڈس گیا

    کہ بام چپ ہے در کھلا پڑا ہے گھر خموش ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY