ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں

انیس احمد انیس

ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں

انیس احمد انیس

MORE BYانیس احمد انیس

    ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں

    ابھی تک ہے یاد مجھ کو ابھی تک بہل رہا ہوں

    میں وہ رند نو نہیں ہوں جو ذرا سی پی کے بہکوں

    ابھی اور اور ساقی کہ میں پھر سنبھل رہا ہوں

    نہیں غم نہ مل سکے گی مجھے شیخ تیری جنت

    مجھے آرزو نہیں ہے نہ میں ہاتھ مل رہا ہوں

    جو نہ میرے کام آئے جو نہ میری بات مانے

    میں وہ دل بدل رہا ہوں میں وہ دل بدل رہا ہوں

    مجھے جادۂ طلب میں رہ پر خطر کا کیا غم

    کہ قدم جدھر اٹھے ہیں اسی سمت چل رہا ہوں

    جو گرا تو پھر اٹھوں گا کہ جواں ہے عزم میرا

    مجھے تم نہ دو سہارا میں اگر پھسل رہا ہوں

    وہ دبا کے میرا دامن وہ جھکا کے ان کی نظریں

    نہیں بھولتا یہ کہنا ابھی میں بھی چل رہا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 69)
    • مطبع : Raghu Nath suhai ummid

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY