ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی

مختار صدیقی

ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    ترے جلوے تیرے حجاب کو میری حیرتوں سے نمو ملی

    کہ تھا شب سے دن کبھی تیرہ تر کبھی شب ہی آئنہ رو ملی

    تری قربتوں سے بھی کیا ہوا تری دوریوں کا تو کیا گلہ

    وہ مقام میں ہی نہ پا سکا مجھے جس مقام پہ تو ملی

    وہ ہواؤں ہی سے برس پڑے وہ تری نگہ سے چھلک اٹھے

    کوئی بے خودی نہ ہمیں ملی کہ جو بے نیاز سبو ملی

    وہ ہو فصل گل کہ فضائے دل جو ملا کہیں تو جنوں ملا

    مگر اک خرد ہی نہ مل سکی جو ملی تو صرف رفو ملی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY