ترے کانوں میں کوئی بات بتانی تھی ہمیں

ناظر وحید

ترے کانوں میں کوئی بات بتانی تھی ہمیں

ناظر وحید

MORE BY ناظر وحید

    ترے کانوں میں کوئی بات بتانی تھی ہمیں

    دل میں سکھیوں کے تری آگ لگانی تھی ہمیں

    ہمیں بازار نے ٹھکرایا تو گھر لوٹے ہیں

    اک محبت تو بہر حال نبھانی تھی ہمیں

    چاندنی آپ کی آنکھوں میں بھلی لگتی ہے

    ہو اجازت تو ذرا عمر بتانی تھی ہمیں

    رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے

    ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں

    ہمیں سگریٹ بھی تو پینی تھی نکل کر گھر سے

    اپنی انگلی پہ یہ دنیا بھی نچانی تھی ہمیں

    تذکرہ اس کا نہیں عشق بچایا کس نے

    مسئلہ یہ تھا کہ اب جان بچانی تھی ہمیں

    آج ہم اس کے دوپٹے کی مہک سے ہیں بندھے

    وہی لڑکی جو کبھی دشمن جانی تھی ہمیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY