ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار

اعزاز کاظمی

ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار

اعزاز کاظمی

MORE BYاعزاز کاظمی

    ترے لئے تو مرے پاس بس دعا ہے یار

    تو اس زمیں پہ بہت اونچا اڑ رہا ہے یار

    یہ کھڑکیاں تو مجھے اور کہہ رہی ہیں کچھ

    سمجھ مرے دل نادان یہ ہوا ہے یار

    یہ دنیا دار مجھے کس طرح سے دیکھتے ہیں

    کہ یہ بشر ہے فرشتہ ہے دیوتا ہے یار

    اگر یہ شوق نہیں ہے تو کیا ہے بتلا دے

    تو کس لئے مجھے کھڑکی سے جھانکتا ہے یار

    تو جس کو ڈھونڈ رہا ہے تجھے ملے گا نہیں

    وہ شخص مجھ سے کہیں کب کا جا چکا ہے یار

    یہ تیرگی کی ہیں آنکھیں کہ ہجر کی لو ہے

    جو جل رہا ہے وہاں سامنے دیا ہے یار

    تو جانا چاہتا ہے تو تجھے اجازت ہے

    مگر پتا تو چلے میں نے کیا کہا ہے یار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY