ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں

ناصر کاظمی

ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں

ناصر کاظمی

MORE BY ناصر کاظمی

    ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں

    مگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں

    بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم

    وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں

    یہاں تک بڑھ گئے آلام ہستی

    کہ دل کے حوصلے شل ہو گئے ہیں

    کہاں تک تاب لائے ناتواں دل

    کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں

    نگاہ یاس کو نیند آ رہی ہے

    مژہ پر اشک بوجھل ہو گئے ہیں

    انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ

    یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں

    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ

    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بلقیس خانم

    بلقیس خانم

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY