تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے

واصف دہلوی

تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے

واصف دہلوی

MORE BYواصف دہلوی

    تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے

    قسم ہے رب عزت کی کہ عزت بڑھتی جاتی ہے

    خدایا خیر ہو معمور ہائے ربع مسکیں کی

    کہ اب دل کھول کر رونے کی عادت بڑھتی جاتی ہے

    کسی کو یاد کر کے ایک دن خلوت میں رویا تھا

    نہیں معلوم کیوں جب سے ندامت بڑھتی جاتی ہے

    کہاں طاقت سنانے کی کسے فرصت ہے سننے کی

    کہ مجمل ہوتے ہوتے بھی حکایت بڑھتی جاتی ہے

    کہاں میں اور کہاں تیری نگاہ لطف اے ساقی

    خدا جانے یہ کیوں مجھ پر عنایت بڑھتی جاتی ہے

    یہ میرا شیشۂ دل ہے خزف ریزہ نہیں ہمدم

    شکستہ جس قدر ہوتا ہے قیمت بڑھتی جاتی ہے

    ادھر تحسین آرائش کی خواہش حسن خود بیں کو

    یہاں جذبات پنہاں کی حفاظت بڑھتی جاتی ہے

    غضب کا جذب ہے واصفؔ نگاہ مست میں اس کی

    منازل قطع ہوتے ہیں عزیمت بڑھتی جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY