تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

محمد رفیع سودا

تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہے

    لیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہے

    سودائی دل کو زلف گرہ گیر شرط ہے

    دیوانے کے علاج میں زنجیر شرط ہے

    نالے تو میں بہت کئے اس بت کے سامنے

    پتھر کے نرم کرنے کو تاثیر شرط ہے

    ہو خاک راہ عشق میں تا قدر ہو تری

    مس کے طلا بنانے کو اکسیر شرط ہے

    کافی ہے اک اشارۂ ابرو ترا ہمیں

    کچھ عاشقوں کے قتل کو شمشیر شرط ہے

    دل کی شکست و ریخت کی میرے تو لے خبر

    ہر گھر کی دیر پائی کو تعمیر شرط ہے

    کرتا ہے کس گنہ پہ عقوبت ہمیں تو یار

    تعزیر کے تو واسطے تقصیر شرط ہے

    سوداؔ میں اس چمن میں ہوں جوں غنچہ دل گرفت

    ماتم سرا میں صورت دلگیر شرط ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY