تجھ کو خود اپنے ہی سائے پہ گماں گزرا ہے
تجھ کو خود اپنے ہی سائے پہ گماں گزرا ہے
تیرا وحشی ترے کوچے سے کہاں گزرا ہے
جھلملانے لگے فانوس تری محفل کے
کوئی پروانہ مگر شعلہ بجاں گزرا ہے
نغمگی نالۂ ہجراں میں کہاں سے لاؤں
سوز دل ساز بہاراں سے کہاں گزرا ہے
پھول گلشن میں جگر چاک نظر آتے ہیں
سرو کے سائے پہ زنداں کا گماں گزرا ہے
غم کی جھنکار میں شامل تھی شکست دل بھی
میرے نالوں پہ تغزل کا گماں گزرا ہے
ٹمٹماتے ہوئے دیکھے ہیں ستاروں کے چراغ
کہکشاں سے ابھی انسان کہاں گزرا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.