تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں

سلیم صدیقی

تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں

سلیم صدیقی

MORE BYسلیم صدیقی

    تجھ کو پانے کے لئے خود سے گزر تک جاؤں

    ایسی جینے کی تمنا ہے کہ مر تک جاؤں

    اب نہ شیشوں پہ گروں اور نہ شجر تک جاؤں

    میں ہوں پتھر تو کسی دست ہنر تک جاؤں

    اک دھندلکا ہوں ذرا دیر میں چھٹ جاؤں گا

    میں کوئی رات نہیں ہوں جو سحر تک جاؤں

    جس کے قدموں کے قصیدوں سے ہی فرصت نہ ملے

    کیسے اس شخص کی تعظیم نظر تک جاؤں

    گھر نے صحرا میں مجھے چھوڑ دیا تھا لا کر

    اب ہو صحرا کی اجازت تو میں گھر تک جاؤں

    اپنے مظلوم لبوں پر جو وہ رکھ لے مجھ کو

    آہ بن کر میں دعاؤں کے اثر تک جاؤں

    اے مری راہ کوئی راہ دکھا دے مجھ کو

    دھوپ اوڑھوں کہ تہہ شاخ شجر تک جاؤں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY