تجھے کس طرح چھڑاؤں خلش غم نہاں سے

فضا جالندھری

تجھے کس طرح چھڑاؤں خلش غم نہاں سے

فضا جالندھری

MORE BYفضا جالندھری

    تجھے کس طرح چھڑاؤں خلش غم نہاں سے

    دل بے قرار لاؤں انہیں ڈھونڈ کر کہاں سے

    وہ بہار کاش آئے وہ چلے ہوائے دل کش

    کہ قفس پہ پھول برسیں مری شاخ آشیاں سے

    کبھی قافلے سے آگے کبھی قافلے سے پیچھے

    نہ میں کارواں میں شامل نہ جدا ہوں کارواں سے

    مرے بعد کی بہاریں مری یادگار ہوں گی

    کہ کھلیں گے پھول اکثر مری خاک رائیگاں سے

    ابھی مسکرا رہی تھیں مری آرزو کی کلیاں

    مجھے لے چلا مقدر سوئے دام آشیاں سے

    جو جبیں میں تھا امانت مرا شوق جبہ سائی

    وہ لپٹ کے رہ گیا ہے ترے سنگ آستاں سے

    ملی لمحہ بھر بھی فرصت نہ فضاؔئے غمزدہ کو

    وہ برس رہے ہیں فتنے شب و روز آسماں سے

    مأخذ :
    • کتاب : auraq salnama magazines (Pg. 1967)
    • Author : Daftar Mahnama Auraq Lahore
    • مطبع : Daftar Mahnama Auraq Lahore (1967)
    • اشاعت : 1967

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY