تجھے رہے نہ رہے ربط باہمی کا خیال

کمال جعفری

تجھے رہے نہ رہے ربط باہمی کا خیال

کمال جعفری

MORE BYکمال جعفری

    تجھے رہے نہ رہے ربط باہمی کا خیال

    مگر مجھے تو ہے آداب دوستی کا خیال

    تڑپ رہا تھا تری بزم ناز میں لیکن

    کسی نے بھی نہ کیا میری بے بسی کا خیال

    پہنچ سکے گا وہ کس طرح اپنی منزل تک

    جسے ذرا بھی نہ ہو اپنی کجروی کا خیال

    مجھے یقین ہے پا لے گا منزلوں کے نشاں

    وہ کارواں کہ نہ ہو جس کو گمرہی کا خیال

    ملو تو دوست بنو ورنہ سازشیں ہی کرو

    کہ دوستی میں نہ شامل ہو دشمنی کا خیال

    رہ حیات میں ہم تو ابھی ہیں نو آموز

    خدا کرے کہ نہ پیدا ہو رہبری کا خیال

    کمالؔ جیسے جہاں ہوں گے چند اہل جنوں

    نہ کر سکے گا وہاں کوئی خود سری کا خیال

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY