تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

احسان جعفری

تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

احسان جعفری

MORE BY احسان جعفری

    تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے

    بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے

    بے نام ہوں بے ننگ ہوں ظاہر تو ہے تم پر

    گر ربط نہیں دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے

    خوشبو کی طرح پھول کی اٹھوں گا چمن سے

    تو پھول کو زلفوں سے گرا کیوں نہیں دیتے

    پہنچوں گا کشاکش میں جہاں تم نے بلایا

    تم حشر کے میداں سے صدا کیوں نہیں دیتے

    محفل میں اگر رونق محفل ہے کوئی اور

    یہ بات بھی محفل کو بتا کیوں نہیں دیتے

    اک بوند سی لرزاں ہے سر چشم تمنا

    نایاب نہیں آب گرا کیوں نہیں دیتے

    ناکردہ گناہوں کی سزا موت ملی ہے

    پھر کردہ گناہوں کی سزا کیوں نہیں دیتے

    زخموں کو مرے دل پہ اگر دیکھ لیا ہے

    دامن سے وفاؤں کی ہوا کیوں نہیں دیتے

    دیکھا تھا کبھی ہم نے محبت کا جنازہ

    باقی ہے اگر کچھ تو دکھا کیوں نہیں دیتے

    ہر لمحہ ہمارا ہی فسانہ ہے زباں پر

    ہم کچھ بھی نہیں ہیں تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    کر لیں گے ہر اک منزل دشوار کو سر ہم

    اک جام محبت کا پلا کیوں نہیں دیتے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY