تم اگر دو نہ پیرہن اپنا

سخی لکھنوی

تم اگر دو نہ پیرہن اپنا

سخی لکھنوی

MORE BYسخی لکھنوی

    تم اگر دو نہ پیرہن اپنا

    چرخ سے مانگ لوں کفن اپنا

    آگے کرتے تھے اس طرح پامال

    یاد تو کیجئے چلن اپنا

    آج ہم جان دینے آئے ہیں

    کچھ دکھاتے ہو بانکپن اپنا

    شانہ زلفوں میں واں نہیں الجھا

    سانپ دکھلا رہا ہے پھن اپنا

    یاد رکھیو ہماری پامالی

    بھولیو مت کبھی چلن اپنا

    یا کہو ہم کنویں میں ڈوب مریں

    یا دکھاؤ کوچۂ ذقن اپنا

    ہم وہ بلبل نہیں جو باغ کو جائیں

    کوچۂ یار ہے چمن اپنا

    ہم کو دکھلا کے تنگ کرتے ہیں

    گہ کمر اپنی گہ دہن اپنا

    جس کو کہتے ہیں لوگ شہر کڑا

    اے سخیؔ ہے وہی وطن اپنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے